hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5037

.

سنن البيهقي

5037
Sunan Al Bayhaqi
(۵۰۳۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ أَبِی عَتِیقٍ کَذَا قَالَ وَہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عَتِیقٍ قَالَ : تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَدِیثًا وَکَانَ الْقَاسِمُ رَجُلاً لَحَّانَۃً ، وَکَانَ لأُمِّ وَلَدٍ۔فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ : مَا لَکَ لاَ تَتَحَدَّثُ کَمَا یَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِی ہَذَا ، أَمَا إِنِّی قَدْ عَلِمْتُ مِنْ أَیْنَ أُتِیتَ۔ہَذَا أَدَّبَتْہُ أُمُّہُ ، وَأَنْتَ أَدَّبَتْکَ أُمُّکَ قَالَ فَغَضِبَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وأَضَبَّ عَلَیْہَا۔فَلَمَّا رَأَی مَائِدَۃَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أُتِیَ بِہَا قَامَ فَقَالَتْ : أَیْنَ؟ قَالَ : أُصَلِّی قَالَتْ : اجْلِسْ قَالَ : إِنِّی أُصَلِّی قَالَتِ : اجْلِسْ غُدَرُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ صَلاَۃَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلاَ وَہُوَ یُدَافِعُہُ الأَخْبَثَانِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَقَالَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَتِیقٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۰]
(٥٠٣٧) عبداللہ بن أبی عتیق فرماتے ہیں : میں اور قاسم بن محمد عائشہ (رض) کے پاس باتیں کر رہے تھے اور قاسم بن محمد کی آواز عمدہ تھی اور یہ ام ولد کے بیٹے تھے۔ عائشہ (رض) فرمانے لگیں : اے قاسم ! تم بات چیت نہیں کرتے جیسے میرا یہ بھیجتا بات کر رہا۔ میں جانتی ہوں تو کہاں سے آیا ہے۔ اس کو تربیت اس کی والدہ نے دی اور تجھے تیری والدہ نے۔ عبداللہ کہتے ہیں : قاسم بن محمد ناراض ہوگئے اور اس پر رنجیدہ ہوئے۔ جب اس نے عائشہ (رض) کا دسترخوان دیکھا کہ کھانا لایا گیا ہے تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : کہاں ؟ قاسم کہنے لگے : میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ عائشہ (رض) نے فرمایا : بیٹھ جا۔ وہ کہنے لگے : میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں، عائشہ (رض) نے فرمایا : بیٹھ جا دھوکے باز۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ کھانے کی موجودگی اور بول وبراز کو روکنے کے وقت نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔