hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5256

.

سنن البيهقي

5256
Sunan Al Bayhaqi
(۵۲۵۶) أَخْبَرَنَا بِحَدِیثِ أَبِی إِسْحَاقَ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاقِلاَنِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ قَالَ: شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ طُعِنَ قَالَ: أَتَاہُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ وَہُوَ یُسَوِّی الصُّفُوفَ فَطَعَنَہُ وَطَعَنَ اثْنَیْ عَشَرَ رَجُلاً۔قَالَ : فَأَنَا رَأَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَاسِطًا یَدَہُ وَہُوَ یَقُولُ أَدْرِکُوا الْکَلْبَ فَقَدْ قَتَلَنِی۔فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِہِ فَأَخَذَہُ ، قَالَ : فَحُمِلَ عُمَرُ إِلَی مَنْزِلِہِ فَأَتَاہُ الطَّبِیبُ فَقَالَ : أَیُّ الشَّرَابِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ: النَّبِیذُ قَالَ: فَدَعَا بِالنَّبِیذِ فَشَرِبَ مِنْہُ فَخَرَجَ مِنْ إِحْدَی طَعَنَاتِہِ۔ فَقَالَ : إِنَّمَا ہَذَا الصَّدِیدُ صَدِیدُ الدَّمِ ۔قَالَ: فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَ فَقَالَ : أَوْصِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بِمَا کُنْتَ مُوصِیًا فَوَاللَّہِ مَا أَرَاکَ تُمْسِی، وَأَتَاہُ کَعْبٌ فَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَکَ لاَ تَمُوتُ إِلاَّ شَہِیدًا وَأَنْتَ تَقُولُ مِنْ أَیْنَ وَأَنَا فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ۔ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ الصَّلاَۃَ عِبَادَ اللَّہِ قَدْ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ۔ قَالَ: فَتَدَافَعُوا حَتَّی قَدَّمُوا عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَیْنِ فِی الْقُرْآنِ {وَالْعَصْرِ} ، وَ{إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} کَذَلِکَ قَالَہُ أَبُو إِسْحَاقَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرُوِّینَاہُ عَنْ أَبِی رَافِعٍ شَبِیہًا بِرِوَایَۃِ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ۔وَحُصَیْنٌ أَحْسَنُ سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ مِنْ غَیْرِہِ وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَہُوَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَحْفَظَ وَقَدْ رُوِّینَا الاِسْتِخْلاَفَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی وَقْتٍ آخَرَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(٥٢٥٦) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : جب عمر بن خطاب (رض) زخمی کیے گئے۔ میں وہاں موجود تھا۔ ابو لؤلؤ آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیں درست کر رہے تھے۔ اس نے آپ کو زخمی کیا اور بارہ مرد اور تھے جو زخمی ہوئے۔ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا، وہ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے اور کہہ رے تھے : کتے کو پکڑو اس نے مجھے قتل کردیا تو ایک شخص پیچھے سے آیا اور قاتل کو پکڑا ۔ حضرت عمر (رض) کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا تو طبیب آیا اور کہنے لگا : آپ کو کیا پینا زیادہ پسند ہے۔ آپ نے فرمایا : نبیذ ” نبیذ لایا گیا تو آپ نے اس سے پیا، وہ ایک زخم سے نکل گیا، کہنے لگے : یہ خون کی پیپ ہے۔ پھر دودھ منگوا کر پیا تو طبیب کہنے لگا : اے امیرالمؤمنین ! وصیت کردیں مجھے نہیں معلوم کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ کعب آئے تو کہنے لگے : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ کو شہادت کی موت آئے گی اور آپ کہتے تھے کہ میں تو جزیرہ عرب میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے بندو ! نماز ! قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتاتو وہ پیچھے ہٹے اور عبد الرحمن بن عوف کو آگے کیا، انھوں نے دو چھوٹی سورتیں پڑھیں : { وَالْعَصْرِ } اور {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ }۔