(۵۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَتَی عَلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ خَرَجْ لِصَلاَۃِ الْفَجْرِ وَعَلِیٌّ یَقُولُ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ، اللَّہُمَّ ارْحَمْنِی ، اللَّہُمَّ تُبْ عَلَیَّ فَضَرَبَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَنْکِبَہُ وَقَالَ: ((اعْمُمْ فَفَضْلُ مَا بَیْنَ الْعُمُومِ والْخُصُوصِ کَمَا بَیْن السَّمَائِ وَالأَرْضِ))۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ۔ [ضعیف جداً۔ ابو داؤد فی المراسیل ۳۲۵۹]
(٥٣٥١) عمرو بن شعیب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی بن ابی طالب کے پاس آئے، وہ نماز فجر کے لیے نکلے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ ! مجھے معاف کر، اے اللہ ! مجھ پر رحم کر، اے اللہ ! میری توبہ قبول کر، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے کندھے پر مارا اور فرمایا : دعا کو عام کر؛ کیونکہ عام و خاص میں فضیلت کا اتنا فرق ہے جیسے آسمان و زمین فرق ہے۔