(۵۴۵۵) فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْخُرَاسَانِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ
سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : مَنْ أَجْمَعَ عَلَی إِقَامَۃِ أَرْبَعِ لَیَالٍ وَہُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلاَۃَ۔
قَالَ مَالِکٌ وَذَلِکَ الأَمْرُ الَّذِی لَمْ یَزَلْ عَلَیْہِ أَہْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَوَجَدْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((یُقِیمُ الْمُہَاجِرُ بَعْدَ قَضَائِ نُسُکِہِ ثَلاَثًا)) وَوَجَدْنَا عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجْلَی الْیَہُودَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَضَرَبَ لَہُمْ أَجَلاً ثَلاَثًا فَرَأَیْنَا ثَلاَثًا مِمَّا یُقِیمُ الْمُسَافِرُ وَأَرْبَعًا کَأَنَّہَا بِالْمُقِیمِ أَشْبَہُ لأَنَّہُ لَوْ کَانَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ یُقِیمَ أَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ کَانَ شَبِیہًا أَنْ یَأْمُرَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِہِ الْمُہَاجِرَ وَیَأْذَنَ فِیہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْیَہُودَ۔
قَالَ الشَّیْخُ فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔ [جید۔ مالک ۳۴۵]
(٥٤٥٥) عطاء بن عبداللہ خراسانی نے سعید بن مسیب سے سنا کہ جو چار رات قیام کا ارادہ کرے اور وہ مسافر ہو تو نماز پوری پڑھے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں : اہل علم کا یہی مذہب ہے۔
نوٹ : امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : مناسک کی ادائیگی کے بعد مہاجرین کو تین دن قیام کی اجازت دی۔ حضرت عمر (رض) نے یہودیوں کے لییجلا وطنی کے بعد تین دن مقرر کیے۔ اس لحاظ سے مسافر اگر تین دن سے زیادہ زیادہ کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ان کے مشابہہ ہے جن کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عمر (رض) نے حکم دیا۔