(۵۴۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہ -ﷺ- فَحَجَجْنَا مَعَہُ فَکَانَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی رَجَعَ قَالَ قُلْتُ : کَمْ أَقَمْتُمْ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: عَشْرًا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ فَہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ بِقَوْلِہِ فَأَقَمْنَا بِہَا عَشْرًا أَیْ بِمَکَّۃَ وَمِنًی وَعَرَفَاتٍ وَذَلِک لأَنَّ الأَخْبَارَ الثَّابِتَۃَ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِمَ مَکَّۃَ فِی حَجَّتِہِ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ فَأَقَامَ بِہَا ثَلاَثًا یَقْصُرُ وَلَمْ یَحْسِبِ الْیَوْمَ الَّذِی قَدِمَ فِیہِ مَکَّۃَ لأَنَّہُ کَانَ فِیہِ سَائِرًا وَلاَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ لأَنَّہُ خَارِجٌ فِیہِ إِلَی مِنًی فَصَلَّی بِہَا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَارَ مِنْہَا إِلَی عَرَفَاتٍ ثُمَّ دَفَعَ مِنْہَا حِینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَبَاتَ بِہَا لَیْلَتَئِذٍ حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ دَفَعَ مِنْہَا حَتَّی أَتَی مِنًی فَقَضَی بِہَا نُسُکَہُ ثُمَّ أَفَاضَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی بِہَا طَوَافَہُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مِنًی فَأَقَامَ بِہَا ثَلاَثًا یَقْصُرُ ثُمَّ نَفَرَ مِنْہَا فَنَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ وَأَذَّنَ فِی أَصْحَابِہِ بِالرَّحِیلِ وَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَیْتِ فَطَافَ بِہِ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَلَمْ یُقِمْ -ﷺ- فِی مَوْضِعٍ وَاحِدٍ أَرْبَعًا یَقْصُرُ۔
وَہَذَا کُلُّہُ مَوْجُودٌ فِی الْمَجْمُوعِ مِنْ رِوَایَاتِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَۃَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِمْ فِی قِصَّۃِ الْحَجِّ وَتِلْکَ الرِّوَایَاتُ بِسِیَاقِہَا تَرِدُ بِمَشِیئَۃِ اللَّہِ فِی کِتَابِ الْحَجِّ۔
[صحیح۔ انظر التخریج الالف]
(٥٤٥٧) یحییٰ بن ابی اسحاق حضرت انس (رض) سے فرماتے ہیں ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا تو واپسی تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو دو رکعات پڑھتے رہے واپسی تک راوی کہتے ہیں میں نے کہا : تم مکہ میں کتنے ٹھہرے ؟ فرمایا : دس دن۔
نوٹ : دس دن ٹھہرنے سے انس بن مالک کی مراد مکہ، منیٰ ، اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ احادیث اس بات پر دلیل کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے جب ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ لیکن مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا؛اس لیے کہ آپ اس دن سفر میں رہے اور نہ ہی یہ اٹھ ذی الحجہ کو شمار کیا ہے۔ کیونکہ اس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ چلے گئے جہاں ظہر ‘ عصر ‘ مغرب ‘ عشا اور صبح ‘ کی نماز ادا کی۔ پھر طلوع شمس کے بعد عرفات آگئے۔ پھر غروبِ شمس کے بعد مزدلفہ آگئے، وہاں دو راتیں صبح تک گزاریں ۔ پھر منیٰ آئے اور مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ آ کر طواف کیا۔ پھر منیٰ آ کر تین دن قیام کیا، اس میں قصر کرتے رہے۔ پھر وادی محصب میں قیام کیا اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نمازِ فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار دن کسی ایک جگہ قیام نہیں کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصر کرتے رہے۔