(۵۴۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَقْصُرُ مِنْ مَرٍّ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : أَقْصُرُ مِنْ عَرَفَاتٍ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : أَقْصُرُ مِنْ جُدَّۃَ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : مِنَ الطَّائِفِ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَإِذَا أَتَیْتَ أَہْلَکَ أَوْ مَاشِیَتَکَ فَأَتِمَّ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح انظر ما قبلہ]
(٥٤٩٥) عطاء بن أبی رباح ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : کیا میں ” مر “ نامی جگہ سے قصر کروں ؟ فرمایا : نہیں ۔ اس نے کہا : عرفات سے قصرں کروں ؟ فرمایا : نہیں۔ اس نے پوچھا : کیا جدۃ سے قصر کروں ؟ فرمایا : ہاں۔ پوچھا : طائف سے ؟ فرمایا : ہاں اور فرمایا : جب تو اپنے گھر یا مویشیوں کے پاس آجائے تو پوری نماز پڑھ۔