(۵۵۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : الْمُسَافِرُ یُدْرِکُ رَکْعَتَیْنِ مِنْ صَلاَۃِ الْقَوْمِ یَعْنِی الْمُقِیمِینَ أَتُجْزِیہِ الرَّکْعَتَانِ أَوْ یُصَلِّی بِصَلاَتِہِمْ؟ قَالَ : فَضَحِکَ وَقَالَ : یُصَلِّی بِصَلاَتِہِمْ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابن أبی شیبہ ۱۳۹۷۸]
(٥٥٠٣) ابو مجلز فرماتی ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ مسافر لوگوں کے ساتھ دو رکعات پالیتا ہے (یعنی حاضر لوگوں کے ساتھ) کیا اس کو دو رکعات کفایت کر جائیں گی یا وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے ؟ ابن عمر (رض) ہنس پڑے اور فرمایا : وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے یعنی چار رکعات پوری کرے۔