(۵۵۴۵) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ا- الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا بِالْمَدِینَۃِ فِی غَیْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ۔قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ فَسَأَلْتُ سَعِیدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمَا سَأَلْتَنِی فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ یُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۰۵]
(٥٥٤٥) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ظہر، عصر بغیر خوف اور سفر کے جمع کر کے پڑھیں۔ ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیوں کیا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے بھی ابن عباس سے اس طرح سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا۔ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ یہ تھا کہ امت میں سے کسی پر حرج نہ ہو۔