(۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَاتَتَ فُلاَنَۃُ تَعْنِی الشَّاۃَ۔قَالَ: فَلَوْلاَ أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا ۔قَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ۔فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیرٍ}[الأنعام: ۱۴۵] ((وَإِنَّکُمْ لاَ تَطْعَمُونَہُ إِنَّمَا تَدْبُغُونَہُ فَتَنْتَفِعُونَ بِہِ))فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ فَاتَّخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً حَتَّی تَخَرَّقَتْ عِنْدَہَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان ۵۰۴۱۵]
(٥٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! فلاں کی بکری مراد تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : ” تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا ؟ “ آپ نے عرض کیا : اس بکری کا چمڑا جو مرگئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیرٍ } [الأنعام : ١٤٥] ترجمہ : کہہ دیجیے میں اس وحی سے جو میری طرف کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ تم اس کو کھاتے نہیں تم اس کو رنگتے ہو اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔ انھوں نے اس (بکری) کی طرف کسی کو بھیجا، اس نے اس کا چمڑا اتارا اور اسے رنگ کر مشکیزہ بنایا حتیٰ کہ وہ ان کے پاس ہی ختم ہوگیا۔