(۵۶۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْحَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَخْطُبُنَا یَوْمَ الْجُمُعَۃَ إِذْ أَقْبَلَتْ عِیرٌ تَحْمِلُ الطَّعَامَ حَتَّی نَزَلُوا بِالْبَقِیعِ فَالْتَفَتُوا إِلَیْہَا وَانْفَضُّوا إِلَیْہَا وَتَرَکُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَیْسَ مَعَہُ إِلاَّ أَرْبَعُونَ رَجُلاً أَنَا فِیہِمْ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً أَوْ لَہْوًا انْفَضُّوا إِلَیْہَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا} [الجمعۃ: ۱۱]
قَالَ عَلِیٌّ: لَمْ یَقُلْ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ أَرْبَعِینَ رَجُلاً غَیْرَ عَلِیِّ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ حُصَیْنٍ وَخَالَفَہُ أَصْحَابُ حُصَیْنٍ فَقَالُوا لَمْ یَبْقَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالأَشْبَہُ أَنْ یَکُونَ الصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَنْ رَوَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی الْخُطْبَۃِ وَقَوْلُ مَنْ قَالَ نُصَلِّی مَعَہُ الْجُمُعَۃَ أَرَادَ بِہِ الْخُطْبَۃَ وَکَأَنَّہُ عَبَّرَ بِالصَّلاَۃِ عَنِ الْخُطْبَۃِ وَحَدِیثُ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ أَیْضًا وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح لغیرہٖ۔ الدارقطنی ۲/۴]
(٥٦٢٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ غلے کا بھرا ہواقافلے آگیا اور بقیع مقام پر پڑاؤ کیا۔ لوگ اس قافلہ کی طرف چلے گئے اور انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف چالیس آدمی تھے ۔ میں بھی ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کردی : { وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً أَوْ لَہْوًا انْفَضُّوا إِلَیْہَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا } [الجمعۃ : ١١] اور جب وہ کسی تجارتی قافلہ یا کھیل کو دیکھتے ہیں تو تجھے کھڑا ہوا چھوڑ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں۔
نوٹ : علی بن عاصم عن حصین اس سند سے چالیس آدمیوں کا تذکرہ ہے، باقی حصین کے شاگرد اس کی مخالفت کرتے ہیں ، وہ صرف بارہ کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : صحیح روایات میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کی حالت میں تھے اور جس نے نماز کا تذکرہ کیا ہے وہ بھی اس سے مراد خطبہ ہی لیتے ہیں۔