(۵۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ النِّدَائَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ کَانَ أَوَّلُہُ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَفِی زَمَانِ أَبِی بَکْرٍ وَفِی زَمَانِ عُمَرَ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ وَإِذَا قَامَتِ الصَّلاَۃُ حَتَّی کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فَزَادَ النِّدَائَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَائِ فَثَبُتَ حَتَّی السَّاعَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۷۳]
(٥٦٨١) زہری سائب بن یزید سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر (رض) اور عمر (رض) کے دور میں پہلی اذان تب ہوتی جب امام نکلتا اور دوسری اذان جب نماز کھڑی ہوتی۔ حضرت عثمان (رض) کے دور میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو تیسری اذان مقام زوراء پر شروع ہوئی، جواب تک جاری ہے۔