(۵۶۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ: أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ کَانُوا فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یُصَلُّونَ حَتَّی یَخْرُجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِذَا خَرَجَ وَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ جَلَسُوا یَتَحَدَّثُونَ حَتَّی إِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ سَکَتُوا فَلَمْ یَتَحَدَّثْ أَحَدٌ۔ [صحیح۔ مالک ۲۳۳]
(٥٦٨٤) ابن شہاب ثعلبہ بن مالک (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے دور میں وہ جمعہ کے دن حضرت عمر کے نکلنے وقت نماز پڑھتے رہتے ۔ جب وہ آتے اور منبر پر بیٹھ جاتے اور مؤذن اذان کہہ دیتے تو سب بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن خاموش ہوجاتے اور حضرت عمر (رض) کھڑے ہوتے تو سب خاموش ہوجاتے اور کوئی ایک بھی بات نہ کرتا۔