(۵۷۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی ثَعْلَبَۃُ بْنُ أَبِی مَالِکٍ الْقُرَظِیُّ وَقَدْ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ حِینَ یَجْلِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ حَتَّی یَقْضِیَ الْمُؤَذِّنُ تَأْذِینَہُ وَیَتَکَلَّمُ عُمَرُ فَإِذَا تَکَلَّم عُمَرُ انْقَطَعَ حَدِیثَنَا فَصَمَتْنَا فَلَمْ یَتَکَلَّمْ أَحَدٌ مِنَّا حَتَّی یَقْضِیَ الإِمَامُ خُطْبَتَہُ۔ [صحیح۔ تقدم ۵۶۸۶]
(٥٧١٧) ثعلبہ بن أبی مالک قرظی فرماتے ہیں کہ اس نے عمر بن خطاب (رض) کو پایا ، ہم آپس میں باتیں کرتے رہتے اور عمر (رض) منبر پر موجود ہوتے ” مؤذن کے اذان کو ختم کرتے وقت اور عمر (رض) کا خطبہ شروع کرنے سے پہلے۔ جب عمر (رض) خطبہ شروع فرماتے تو ہماری باتیں ختم اور ہم خاموش ہوجاتے۔ پھر امام کے خطبہ سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہیں کرتا تھا۔