(۵۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَیْنَاہُ ، وَعَلاَ صَوْتُہُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ حَتَّی کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ یَقُولُ: صَبَّحَکُمْ وَمَسَّاکُمْ ۔وَیَقُولُ: ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ))۔وَیُفَرِّقُ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطَی وَیَقُولُ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللَّہِ ، وَخَیْرُ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا ، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ)) ثُمَّ یَقُولُ ((أَنَا أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ ، مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلأَہْلِہِ ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَإِلَیَّ وَعَلَیَّ)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَکَذَا قَالَہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرٍ کَانَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَیْنَاہُ وَعَلاَ صَوْتُہُ وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۶۷]
(٥٧٥٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی اور آواز بلند ہوجاتی اور غصہ سخت ہوجاتا، گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں، جو صبح یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : میں اور قیامت اس طرح ہیں جیسے یہ دو انگلیاں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سبابہ اور وسطیٰ کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ فرماتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ و سیرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور بدترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے : میں ہر مؤمن سے زیادہ اس کے نفس سے زیادہ قریب ہوں۔ جس نے مال چھوڑا تو تو اس کے گھروالوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑاتو وہ میرے ذمہ ہے۔ جعفر فرماتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہوجاتا۔