(۵۷۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ إِسْمَاعِیلُ أَحْسَبُہُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُوعُبَیْدٍ: ہَکَذَا حَفِظْتُہُ أَنَا عَنْہُ ثُمَّ بَلَغَنِی بَعْدُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَشُکُّ فِیہِ إِذَا اسْتَطْعَمَکُمُ الإِمَامُ فَأَطْعِمُوہُ۔
وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ قَوْلِہِ نَحْوَ الأَوَّلِ وَزَادَ قُلْنَا مَا اسْتِطْعَامُہُ قَالَ إِذَا تَعَایَا فَسَکَتَ فَافْتَحُوا عَلَیْہِ۔ [حسن لغیرہٖ۔ الدار قطنی ۱/۴۵۵]
(٥٧٩٢) (الف) ابو عبید فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں نے ان سے یاد کیا۔ پھر اس کے بعد مجھے خبر ملی جس میں شک نہیں کہ جب تمہارا امام تم سے کھانا طلب کرے تو تم اس کو کھلاؤ۔
(ب) ابو عبد الرحمن پہلے قول کی طرح بیان کرتے ہیں ، لیکن اس میں اضافہ ہے۔ اس کا کھانا طلب کرنا کیا ہے ؟ فرمایا : جب وہ تھک کر خاموش ہوجائے تو تم اس کو لقمہ دو ۔