(۵۷۹۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَالْفَرَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرٍ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ خُطْبَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیُثْنِی عَلَیْہِ ، ثُمَّ یَقُولُ عَلَی أَثَرِ ذَلِکَ وَقَدْ عَلاَ صَوْتُہُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ یَقُولُ: صَبَّحَکُمْ أَوْ مَسَّاکُمْ ۔ثُمَّ یَقُولُ: ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ)) وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ الْوُسْطَی وَالَّتِی تَلِی الإِبْہَامَ ۔ثُمَّ یَقُولُ: ((إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللَّہِ ، وَخَیْرُ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا ، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ۔مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلأَہْلِہِ ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَإِلَیَّ وَعَلَیَّ))۔لَفْظُ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ تقدم ۵۷۵۳]
(٥٧٩٨) جابر بن عبداللہ (رض) نے سنا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جمعہ کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر اس کے بعد بلند آواز سے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ سخت اور رخسار سرخ ہوچکے تھے، گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ پھر فرماتے : میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی درمیانی انگلی اور اس انگلی سے اشارہ کیا جو انگوٹھے کے ساتھ ملنے والی ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت ہے اور بد ترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ جس نے مال چھوڑاوہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جس نے قرض یا نقصان چھوڑا وہ میرے ذمہ ہے۔