(۵۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ: الَّذِی أَرَی النَّاسَ یَدْعُونَ بِہِ فِی الْخُطْبَۃِ یَوْمَئِذٍ أَبَلَغَکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَوْ عَمَّنْ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- ؟ قَالَ: لاَ إِنَّمَا أُحْدِثَ إِنَّمَا کَانَتِ الْخُطْبَۃُ تَذْکِیرًا۔وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ وَغَیْرِہِ فِی خُطْبَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[حسن۔ أخرجہ الشافعی فی الام ۱/۳۴۶]
(٥٨١٣) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : وہ جو آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ دوران خطبہ دعا کرتے ہیں، آج کل۔ کیا آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث ملی یا یہ آپ کی وفات کے بعد شروع ہوا ؟ فرمایا : حدیث تو کوئی نہیں لیکن یہ بدعت ہے۔