(۵۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ قَلَّمَا یَدَعُ ذَلِکَ إِذَا خَطَبَ: إِذَا قَامَ الإِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِی لاَ یَسْمَعُ مَنِ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلسَّامِعِ الْمُنْصِتِ ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلاَۃُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاکِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَۃِ ، ثُمَّ لاَ یُکَبِّرُ حَتَّی یَأْتِیَہِ رِجَالٌ قَدْ وَکَلَہُمْ بِتَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ فَیُخْبِرُونَہُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَیُکَبِّرُ۔ [صحیح۔ مالک ۲۲۹]
(٥٨٣٥) مالک بن أبی عامر حضرت عثمان بن عفان (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خطبہ میں کہہ رہے تھے : بہت کم اس کو چھوڑتے ہیں جب امام خطبہ دے یاخطبہ کے لیے کھڑا ہو، جمعہ کے دن تو تم خاموش رہو اور غور سے سنو کیونکہ جو خاموش ہو کر سنے اس کے لیے اجر ہے اور جو اس طرحنہ کرے تو وہ اجر سے بھی محروم ہوگا۔ جب اقامت ہوجائے تو صفیں درست کرلو اور کندھے باہر کرلو کیونکہ صفوں کا درست کرنا نماز کو پورا کرنا ہے۔ پھر اتنی دیر تکبیر نہ کہتے، جتنی دیر صفوں کو درست کرنے والا اس کی اطلاع نہ دے دے کہ صفیں درست ہوچکیں ۔ جب وہ خبر دیتے کہ صفیں درست ہوگئی تب آپ نماز شروع کرتے۔