(۵۸۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی أَبُو الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیُّ حَدَّثَنِی أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((مَنْ غَسَّلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ بَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَمَشَی ، وَلَمْ یَرْکَبْ وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ عَمَلُ سَنَۃٍ أَجْرُ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا))۔ [صحیح۔ تقدم ۵۸۶۵]
(٥٨٧٨) اوس بن اوس ثقفی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سناجس نے جمعہ کے دن سر کو دھویا اور غسل کیا۔ پھر صبح سویرے چلا، سوار نہیں ہوا اور امام کے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنا اور فضول بات نہیں کی تو اس کو ایک قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔