(۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَدَاوُدُ بْنُ شَبِیبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : أُقِیمَتْ صَلاَۃُ الْعِشَائِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی حَاجَۃٌ۔ فَقَامَ یُنَاجِیہِ حَتَّی نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ وَلَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ دُونَ قَوْلِہِ وَلَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۴۰]
(٥٩٣) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عشا کی نماز کھڑی ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کام ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرتے رہے اور لوگوں کو یا کسی ایک کو اونگھ آگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) صحیح مسلم میں ” لَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا “ کے الفاظ ہیں۔