(۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْدٍ حَدَّثَنِی بَحْرُ بْنُ کَنِیزٍ السَّقَّائُ عَنْ مَیْمُونٍ الْخَیَّاطِ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ : کُنْتُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ جَالِسًا أَخْفُقُ ، وَاحْتَضَنَنِی رَجُلٌ مِنْ خَلْفِی فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ وَجَبَ عَلَیَّ وُضُوئٌ ؟ قَالَ : ((لاَ حَتَّی تَضَعَ جَنْبَکَ))۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ تَفَرَّدَ بِہِ بَحْرُ بْنُ کَنِیزٍ السَّقَّائُ ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن عدی ۲/۵۴]
(٥٩٥) سیدنا حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا ۔ پیچھے سے ایک شخص نے مجھے چوکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا مجھے پر وضو ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں جب تک تیرا پہلونہ جھکے۔