hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5951

.

سنن البيهقي

5951
Sunan Al Bayhaqi
(۵۹۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالنَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی حُلَّۃَ سِیَرَائَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوِ اشْتَرَیْتَ ہَذِہِ الْحُلَّۃَ فَلَبِسْتَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَیْکَ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِنَّمَا یَلْبَسُ ہَذِہِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ فِی الآخِرَۃِ))۔ ثُمَّ جَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مِنْہَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہَا حُلَّۃً فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَسَوْتَنِیہَا وَقَدْ قُلْتَ فِی حُلَّۃِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنِّی لَمْ أَکْسُکَہَا لِتَلْبَسَہَا۔ فَکَسَاہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخًا لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۴۶]
(٥٩٥١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے مسجد کے دروازے پر ایک دھاری دار حلہ دیکھاتو عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ حلہ خرید لیں اور اس کو جمعہ اور آنے والے وفود کے لیے پہنیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو وہ زیب تن کرتا ہے جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔ پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حلہ آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب کو دے دیا۔ وہ عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے پہنایا دیاحالاں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطارد کے حلہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اس لیے نہیں دیا تاکہ آپ پہن لیں، حضرت عمر (رض) نے اپنے مشرک بھائی جو مکہ میں رہتا تھا اس کو پہنا دیا۔