(۵۹۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ قَالَ: کَانَ لِی عَمَّانِ قَدْ شَہِدَا الشَّجَرَۃَ یَأْخُذَانِ مِنْ شَوَارِبِہِمَا وَأَظْفَارِہِمَا کُلَّ جُمُعَۃٍ۔
فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا فِی: ((الْمُؤْمِنِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ کَہَیْئَۃِ الْمُحْرِمِ لاَ یَأْخُذُ مِنْ أَظْفَارِہِ وَلاَ مِنْ شَعَرِہِ حَتَّی تَنْقَضِیَ الصَّلاَۃُ))۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: ((الْمُسْلِمُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مُحْرِمٌ فَإِذَا صَلَّی فَقَدْ أَحَلَّ))۔فَإِنَّمَا رُوِیَا عَنْہُمَا بِإِسْنَادَیْنِ ضَعِیفَیْنِ لاَ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِمَا وَفِی الرِّوَایَۃِ الصَّحِیحَۃِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ فِعْلِہِ دَلِیلٌ عَلَی ضَعْفِ مَا یُخَالِفُہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن الجعد ۱۰۸۱]
(٥٩٦٥) (الف) معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے دو چچا تھے۔ دونوں درخت کے پاس حاضر ہوئے (اصحاب الشجرہ) اور دونوں اپنی مونچھیں اور ناخن ہر جمعہ کاٹتے تھے۔ (ب) ابن عباس (رض) سے مرفوعاً منقول ہے کہ مومن ہر جمعہ محرم کی حالت میں ہوتا ہے، وہ نماز کی تکمیل تک نہ تو اپنے بال تراشتا ہے اور نہ ناخن کاٹتا ہے۔ (ج) ابن عمر (رض) سے مرفوعاً منقول ہے کہ مسلمان جمعہ کے دن محرم ہوتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے تو حلال ہوجاتا ہے۔