(۶۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ الأَنْصَارِیِّ حَدَّثَہُ: أَنَّ صَلاَۃَ الْخَوْفِ أَنْ یَقُومَ الإِمَامُ وَمَعَہُ طَائِفَۃٌ مِنْ أَصْحَابِہِ ، وَطَائِفَۃٌ مُوَاجِہَۃُ الْعَدُوِّ فَیَرْکَعُ بِہِمُ الإِمَامُ رَکْعَۃً ، وَیَسْجُدُ بِاللَّذِینَ مَعَہُ ، ثُمَّ یَقُومُ ، فَإِذَا اسْتَوَی قَائِمًا ثَبَتَ وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِہِمُ الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالإِمَامُ قَائِمٌ وَکَانُوا وُجَاہَ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ یُقْبِلُ الآخَرُونَ الَّذِینَ لَمْ یُصَلُّوا فَیُکَبِّرُونَ وَرَائَ الإِمَامِ فَیَرْکَعُ بِہِمْ وَیَسْجُدُ ثُمَّ یُسَلِّمُ فَیَقُومُونَ فَیَرْکَعُونَ لأَنْفُسِہِمُ الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ثُمَّ یُسَلِّمُونَ۔
کَذَا رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم ۶۰۰۹]
(٦٠١٥) سہل بن ابی حثمہ (رض) فرماتے ہیں کہ نماز خوف میں امام کے ساتھ اس کے ساتھیوں کا ایک گروہ کھڑا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے۔ امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور جو لوگ امام کے ساتھ ہیں سجدہ کریں، پھر امام کھڑا ہوجائے اور جب امام سیدھا کھڑا ہو جائیتو کھڑا ہی رہے ۔ پھر وہ اپنی دوسری رکعت مکمل کریں اور سلامپھیر کر چلے جائیں۔ امام کھڑا رہے اور وہ دشمن کے سامنے ہوجائیں۔ پھر وہ آئیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ امام کے پیچھے تکبیر کہیں گے اور امام ان کو ایک رکعت پڑھائے۔ پھر وہ سلام پھیر دے اور وہ کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کریں اور سلام پھیریں۔