(۶۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا ہُوَ التَّکْبِیرُ وَالإِشَارَۃُ بِالرَّأْسِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ قَوْلِ مُجَاہِدٍ: إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا ہُوَ التَّکْبِیرُ وَالإِشَارَۃُ بِالرَّأْسِ۔وَزَادَ عَنْ النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِنْ کَثُرُوا فَلْیُصَلُّوا رُکْبَانًا أَوْ قِیَامًا عَلَی أَقْدَامِہِمْ یَعْنِی صَلاَۃَ الْخَوْفِ۔
[صحیح۔ بخاری ۹۰۱]
(٦٠٢١) مجاہد فرماتے ہیں کہ جب وہ خلط ملطہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کرتے جائیں۔
ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مجاہد کے قول کی طرح بیان کرتے ہیں : جب وہ خلطملط ہوجائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کریں۔ لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے کہ اگر وہ تعداد میں زیادہ ہوں تو سوار یا اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیں، یعنی نماز خوف۔