hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 603

.

سنن البيهقي

603
Sunan Al Bayhaqi
(۶۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : أَلاَ تُحَدِّثِینِی عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَتْ : بَلَی ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ۔ قَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ ؟ ۔ فَقُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ فَقُلْنَا : لاَ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِی الْمَسْجِدِ یَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِصَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ لَفْظُہُمَا سَوَائٌ وَبَاقِی الْحَدِیثِ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ (ق) وَالْغُسْلُ بِالإِغْمَائِ شَیْئٌ اسْتَحَبَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالْوُضُوئُ یَکْفِی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۵۵]
(٦٠٤) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گیا اور عرض کیا : آپ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض کی حدیث بیان نہیں کریں گی ! انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بدن مبارک بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برتن میں میرے لیے پانی رکھو ، ہم نے پانی رکھ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برتن میں پانی رکھو ہم نے ایسے ہی کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : میرے لیے برتن میں پانی رکھو ہم نے برتن میں پانی رکھا۔ آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول ! سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : لوگ مسجد میں (نیند کی وجہ سے) جھکے ہوئے تھے وہ رسول اللہ کے ساتھ عشا کی نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا ابوبکر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
(ب) بےہوشی میں غسل کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مستحب سمجھا اگرچہ وضو بھی کافی ہے۔