(۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : تَذَاکَرْنَا اللَّمْسَ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِی : لَیْسَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ : ہِیَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَعَ أَیِّہِمْ کُنْتَ؟ قُلْتُ : مَعَ الْمَوَالِی۔ قَالَ : غُلِبَتِ الْمَوَالِی ، إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَۃَ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَکْنَی مَا شَائَ بِمَا شَائَ ، وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ ظَاہِرَ الْکِتَابِ أَوْلَی۔ [صحیح]
(٦٠٩) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم نے لمس (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا : یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا : یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس (رض) سے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : تم کن کے ساتھ ہو ؟ میں نے کہا : موالی کے ساتھ تو انھوں نے کہا : موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ نے کنایہ ذکرکیاجی سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔