(۶۱۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِی عَوْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ قَالَ لِی أُمَیَّۃُ وَأَنَا أَمْشِی مَعَہُ: یَا عَبْدَ الإِلَہِ مَنِ الرَّجُلُ مِنْکُمْ مُعْلَمٌ بِرِیشَۃِ نَعَامَۃٍ فِی صَدْرِہِ؟ فَقُلْتُ: ذَاکَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ۔فَقَالَ: ذَاکَ فَعَلَ بِنَا الأَفَاعِیلَ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ الحاکم ۲/۱۲۸]
(٦١١٤) عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ مجھے امیہ (رض) پوچھنے لگے اور میں ان کے ساتھ چل رہا تھا : اے اللہ کے بندے ! وہ کون آدمی تھا جس کیسینے پر شتر مرغ کے پر کی علامت تھی ؟ میں نے کہا : وہ حمزہ بن عبد المطلب تھے۔ فرمایا : ہمارے ساتھ کرنے والوں نے یہی کیا ۔