(۶۱۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ سَعِیدٍ الْقَطَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَغْدُو إِلَی الْعِیدِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَکَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ حَتَّی یَأْتِیَ الْمُصَلَّی وَیُکَبِّرُ حَتَّی یَأْتِیَ الإِمَامُ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَقَالَ: یَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَی وَہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہَیْنِ ضَعِیفَیْنِ مَرْفُوعًا۔ أَمَّا أَمْثَلُہُمَا۔ [قوی۔ حاکم ۱/۴۳۸]
(٦١٢٩) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ صبح عید الفطر کے لیے مسجد میں جاتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے ، عید گاہ تک پہنچنے تککہتے رہتے اور امام کے آنے تک بھی تکبیریں کہتے رہتے۔