(۶۱۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الأَضْحَی یَخْرُجُ مَاشِیًا ، وَتُحْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ الْحَرْبَۃُ ، ثُمَّ تُنْصَبُ بَیْنَ یَدَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ یَتَّخِذُہَا سُتْرَۃً وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُبْنَی الدُّورُ فِی الْمُصَلَّی قَالَ وَفَعَلَ ذَلِکَ بِعَرَفَۃَ۔
قَوْلُہُ ((مَاشِیًا)) غَرِیبٌ لَمْ أَکْتُبْہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ إِلاَّ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ فَأَمَّا سَائِرُ أَلْفَاظِہِ فَمَشْہُورَۃٌ۔ [حسن بطرقہ]
(٦١٤٤) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر اور عید الاضحی کے دن پیدل جاتے تھے اور نیزا آپ کے آگے لے جایاجاتا تھا، پھر نماز کے وقت آپ کے سامنے گاڑ دجاتا تاکہ اسے سترہ بنا سکیں۔ یہ عید گاہ کی عمارت بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں کیا کرتے تھے۔