(۶۱۵۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْفِہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: ((إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ ثُمَّ الصَّلاَۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی یَنْتَصِفَ النَّہَارُ))۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابن خزیمہ ۱۲۷۵]
(٦١٥١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، انھوں نے حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ جب آپ نماز پڑھیں تو سورج کے طلوع ہونے تک رک جائیں؛ کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر وہ نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول بھی ہے یہاں تک کہ آدھا دن ہوجائے۔