(۶۱۶۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزَرَۃُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَأَبُو الأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الأَضْحَی بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَقَالَ: مَنْ صَلَّی صَلاَتَنَا ، وَنَسَکَ نُسُکَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُکَ ، وَمَنْ نَسَکَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَشَاتُہُ شَاۃُ لَحْمٍ ، وَلاَ نُسَکَ لَہُ ۔
فَقَالَ أَبُو بُرْدَۃَ بْنُ نِیَارٍ خَالُ الْبَرَائِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنِّی نَسَکْتُ شَاتِی قَبْلَ الصَّلاَۃِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْیَوْمَ یَوْمُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَکُونَ شَاتِی أَوَّلَ شَیْئٍ یُذْبَحُ فِی بَیْتِی فَذَبَحْتُ شَاتِی وَتَغَدَّیْتُ قَبْلَ أَنْ آتِیَ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((شَاتُکَ شَاۃُ لَحْمٍ))۔قَالَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لنا جَذَعَۃً ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ شَاتَیْنِ أَفَتُجْزِئُ عَنِّی؟ قَالَ: ((نَعَمْ ، وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَکَذَلِکَ مُسْلِمٌ إِلاَّ أَنَّہُمَا لَمْ یَذْکُرَا أَبَا الأَحْوَصِ عَنْ عُثْمَانَ وَقَدْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَنَّادٍ وَقُتَیْبَۃَ کُلُّہُمْ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۳۶]
(٦١٦٤) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الاضحی کے دن نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا : جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی درست ہے اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی بکری گوشت کی بکری ہے اس کی قربانی نہیں۔ ابو بردہ براء بن عازب کے خال وہیں، انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنی بکری نماز سیپہلے ذبح کردی اور میں سمجھتا تھا کہ آج کا دن کھانے اور پینے کا ہے اور میں نے پسند کیا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے بکری کو ذبح کیا جائے، میں نے اسے ذبح کردیا اور نماز کی طرف آنے سے پہلے اس کا گوشت کھایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری بکری گوشت کی بکری ہیں۔ عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس بکری کا بچہ (جذعہ) ہے۔ کیا یہ مجھ سے کفایت کر جائے گا ، جب کہ یہ مجھے دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔