(۶۱۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَہُ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ أَوَّلَ مَا بُویِعَ: أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یُؤَذَّنُ لِلصَّلاَۃِ یَوْمَ الْفِطْرِ فَلاَ تُؤَذِّنْ لَہَا فَلَمْ یُؤَذِّنْ لَہَا ابْنُ الزُّبَیْرِ وَأَرْسَلَ إِلَیْہِ مَعَ ذَلِکَ: إِنَّمَا الْخُطْبَۃُ بَعْدَ الصَّلاَۃِ وَإِنَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یُفْعَلُ قَالَ فَصَلَّی ابْنُ الزُّبَیْرِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۹۱۶]
(٦١٦٦) عطاء فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے ان کو ابن زبیر کے پاس بھیجا، جب پہلی بیعت کی گئی۔ وہ نہ تو عید الفطر کے دن اذان دیتے اور نہ ہی اقامت کہتے۔ ابن زبیر بھی عید الفطر کے لیے اذان نہ دیتے تھے اور وہ خطبہ نماز کے بعد ارشاد فرماتے تھے اور ابن زبیر نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی۔