(۶۲۱۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ: السُّنَّۃُ فِی تَکْبِیرِ یَوْمِ الأَضْحَی وَالْفِطْرِ عَلَی الْمِنْبَرِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ أَنْ یَبْتَدِئَ الإِمَامُ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ وَہُوَ قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ بِتِسْعِ تَکْبِیرَاتٍ تَتْرَی لاَ یَفْصِلُ بَیْنَہَا بِکَلاَمٍ ، ثُمَّ یَخْطُبُ ، ثُمَّ یَجْلِسُ جَلْسَۃً ثُمَّ یَقُومُ فِی الْخُطْبَۃِ الثَّانِیَۃِ فَیَفْتَتِحُہَا بِسَبْعِ تَکْبِیرَاتٍ تَتْرَی لاَ یَفْصِلُ بَیْنَہَا بِکَلاَمٍ ثُمَّ یَخْطُبُ۔
[ضعیف جداً۔ أخرجہ الشافعی فی الام جلد ۱ صفحہ ۳۹۷ ]
(٦٢١٧) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن منبر پر خطبہ سے پہلے امام کا تکبیر کہنا سنت ہے۔ امام خطبہ سے پہلے منبر پر کھڑے ہو کر نو تکبیریں مسلسل کہے اور ان کے درمیان کلام کے ذریعے فاصلہ نہ ہو، پھر وہ خطبہ دے ‘ پھر تھوڑی دیر بیٹھ جائے، پھر دوسرے خطبہ کے لیے کھڑا ہو ‘ پھر مسلسل سات تکبیریں کہے۔ ان کے درمیان کلام کے ذریعے فاصلہ نہ کرے، پھر خطبہ دے۔