hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6229

.

سنن البيهقي

6229
Sunan Al Bayhaqi
(۶۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْقُرَشِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمِنْ سَاعَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سَاعَۃٌ تَأْمُرُنِی أَنْ لاَ أُصَلِّیَ فِیہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((نَعَمْ إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ ، ثُمَّ الصَّلاَۃُ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی یَنْتَصِفَ النَّہَارُ ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّہَارُ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَمِیلَ الشَّمْسُ فَإِنَّ حِینَئِذٍ تُسْعَرُ جَہَنَّمُ ، وَشِدَّۃُ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَالْصَلاَۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، فَإِذَا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلاَۃُ مَشْہُودۃٌ مَحْضُوَرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الصُّبْحَ))۔ [صحیح]
(٦٢٢٩) سعید بن ابی سعید مقبری ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! آپ دن اور رات کی کونسی گھڑی میں مجھے نماز پڑھنے سے روکیں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو صبح کی نماز پڑھ لے تو سورج کے بلند ہونے تک نماز سے رک جا؛ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوح ہوتا ہے۔ پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، یہ نصف نہار تکقبول ہے ، جب آدھا دن ہوجائے تو سورج کے ڈھلنے تک نماز سے رک جا۔ کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لو سے ہے۔ پھر جب سورج ڈھل جائے تو یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقبول ہے یہاں تک کہ تو عصر کی نماز پڑھ لے اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رک جا، پھر ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مقبول بھی ہے۔ یہاں تک کہ تو صبح کی نماز پڑھ لے۔