hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6235

.

سنن البيهقي

6235
Sunan Al Bayhaqi
(۶۲۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَلْخِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ الطُّوسِیَّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عَوْنٌ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ أَبِی تَوَضَّأَ فِی یَوْمِ عِیدٍ ، ثُمَّ صَلَّی فِی أَہْلِہِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی فَخَرَجْنَا إِلَی الْمُصَلَّی فَدَنَا قَرِیبًا مِنَ الإِمَامِ حَیْثُ یَسْمَعُ ، فَلَمَّا قُضِیَتِ الصَّلاَۃُ لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلاَ بَعْدَہَا بَعْدَ أَنْ یَخْرُجَ مِنْ أَہْلِہِ حَتَّی یَرْجِعَ ، ثُمَّ صَلَّی فِی أَہْلِہِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لَمَّا رَجَعَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ: أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی یَوْمَ الْعِیدِ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ الإِمَامُ۔ وَعَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ: أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلاَۃِ وَبَعْدَہَا فِی الْمَسْجِدِ۔وَعَن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی قَبْلَ أَنْ یَغْدُوَ إِلَی الْمُصَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ۔ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ: أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی بَعْدَ الْعِیدِ ثَمَانَ رَکَعَاتٍ۔وَکَرِہَ الصَّلاَۃَ قَبْلَہَا وَبَعْدَہَا جَمَاعَۃٌ ، وَکَرِہَہَا قَبْلَہَا وَلَمْ یَکْرَہْہَا بَعْدَہَا بَعْضُہُمْ ، وَکَرِہَہَا بَعْضُہُمْ فِی الْمُصَلَّی وَلَمْ یَکْرَہْہَا فِی الْمَسْجِدِ وَفِی بَیْتِہِ وَیَوْمُ الْعِیدِ کَسَائِرِ الأَیَّامِ۔ وَالصَّلاَۃُ مُبَاحَۃٌ إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ حَیْثُ کَانَ الْمُصَلَّی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
(٦٢٣٥) عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو عید کے دن وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر انھوں نے اپنے گھر میں چار رکعات نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے میرے ہاتھ کو پکڑا ہم عید گاہ کی طرف چلے گئے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے، جہاں وہ خطبہ سن رہے تھے ‘ جب نماز مکمل کی گئی تو اس سے پہلے اور بعد میں انھوں نے نماز ادا نہیں کی، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹے اور گھر میں چار رکعت نماز ادا کی۔ سعید بن مسیب (رض) عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے اور عروہ بن زبیرعید الفطر کے دن نماز سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ قاسم بن محمد عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور محمد بن سیرین عید کے بعد آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
نوٹ : ایک جماعت عید سے پہلے اور بعد میں نماز کو ناپسند کرتی ہے اور بعض لوگ اس کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے اور بعض عید گاہ میں نماز کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن مسجد اور گھر میں عید کے دن نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے۔
عید کا دن تمام دنوں کی طرح ہے اور جب سورج بلند ہوجائے تو نماز مباح ہوجاتی ہے جہاں بھی ادا کی جائے۔