(۶۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفِرَاینِیَانِ بِہَا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ خَادِمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: کَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْہُ صَلاَۃُ الْعِیدِ مَعَ الإِمَامِ جَمَعَ أَہْلَہُ فَصَلَّی بِہِمْ مِثْلَ صَلاَۃِ الإِمَامِ فِی الْعِیدِ۔
وَیُذْکَرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ کَانَ إِذَا کَانَ بِمَنْزِلِہِ بِالزَّاوِیَۃِ فَلَمْ یَشْہَدِ الْعِیدَ بِالْبَصْرَۃِ جَمَعَ مَوَالِیَہُ وَوَلَدَہُ ثُمَّ یَأْمُرُ مَوْلاَہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی عُتْبَۃَ فَیُصَلِّی بِہِمْ کَصَلاَۃِ أَہْلِ الْمِصْرِ رَکْعَتَیْنِ وَیُکَبِّرُ بِہِمْ کَتَکْبِیرِہِمْ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ فِی الْمُسَافِرِ یُدْرِکُہُ الأَضْحَی قَالَ: یَکُفُّ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَضَحَّی إِنْ شَائَ۔
وَعَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہُ قَالَ: أَہْلُ السَّوَادِ یَجْتَمِعُونَ فِی الْعِیدِ یُصَلُّونَ رَکْعَتَیْنِ کَمَا یَصْنَعُ الإِمَامُ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ: کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ إِذَا فَاتَ الرَّجُلَ الصَّلاَۃُ فِی الْعِیدَیْنِ أَنْ یَمْضِیَ إِلَی الْجَبَّانِ فَیَصْنَعَ کَمَا یَصْنَعُ الإِمَامُ۔ وَعَنْ عَطَائٍ إِذَا فَاتَہُ الْعِیدُ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ لَیْسَ فِیہِمَا تَکْبِیرٌ۔ [ضعیف]
(٦٢٣٧) عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) سے جب نمازِ عید امام سے رہ جاتی تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ویسے ہی نماز پڑھاتے جیسے امام عید کی نماز پڑھاتا ہے۔ انس بن مالک (رض) سے نقل کیا گیا کہ جب وہ اپنے گھر ” زاویہ “ میں ہوتے ہیں بصرہ میں عید کے لیے حاضر نہیں ہوتے۔ وہ اپنے غلاموں اور بیٹوں کو جمع کرتے ، پھر اپنے غلام عبداللہ بن ابی عتبہ کو حکم دیتے شہر وہنقل والوں کی طرح ان کو نماز پڑھاتے اور ان کی تکبیروں کی طرحتکبیرکہتے اور حسن بصری (رض) سے مسافر کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاشت کے وقت کو پالیتو وہ رک جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے، پھر دو رکعت نماز پڑھے۔ پھر اگر نماز چاشت پڑھنی ہے تو پڑھ لے۔
عکرمہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سواد والے عید میں جمع ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کیجی سے امام کرتا ہے اور محمد بن سیرین سے منقول ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب آدمی سے عیدین کی نماز رہ جائے وہ ” جبان “ جا کر ویسے ہی نماز ڑھے جیسے امام پڑھتا ہے اور عطاء فرماتے ہیں کہ نماز عید رہ جائے تو دو رکعت نماز ادا کرے، لیکن ان دونوں میں تکبیر نہیں ہے۔