(۶۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فَحَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُکَبِّرُ فِی قُبَّتِہِ بِمِنًی فَیَسْمَعُہُ أَہْلُ الْمَسْجِدِ فَیُکَبِّرُونَ فَیَسْمَعُہُ أَہْلُ السُّوقِ فَیُکَبِّرُونَ حَتَّی تَرْتَجَّ مِنًی تَکْبِیرًا۔
وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یُکَبِّرُ بِمِنًی تِلْکَ الأَیَّامَ وَخَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَعَلَی فِرَاشِہِ ، وَفِی فُسْطَاطِہِ وَمَجْلِسِہِ وَمَمْشَاہُ تِلْکَ الأَیَّامِ جَمِیعًا۔ [صحیح]
(٦٢٦٧) عبید بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) منیٰ کے اندر اپنے خیمہ میں تلبیہ کہتے۔ مسجد والے اس کو سنتے اور تکبیریں کہتے۔ ان کو بازار والے سنتے اور تکبیریں کہتے۔ یہاں تک کہ منیٰ تکبیروں سے گونج اٹھتا۔
حضرت عبداللہ عمر (رض) سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایام ( تشریف) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔