(۶۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرٍ:أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ:عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یُونُسَ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبِّاسٍ:أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-مَرَّ بِشَاۃٍ مَیِّتَۃٍ ، فَقَالَ: ((ہَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِإِہَابِہَا؟))فَقَالُوا:یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہَا مَیْتَۃٌ۔فَقَالَ: ((إِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا))زَادَ عُقَیْلٌ: ((أَوَلَیْسَ فِی الْمَائِ وَالْقَرَظِ مَا یُطَہِّرُہَا؟)) [حسن۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۴۱]
(٦٤) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کے چمڑے سے نفع کیوں نہ حاصل کرلیا ؟ “ انھوں نے کہا : وہ تو مردار ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کا صرف کھانا حرام ہے۔ “ عقیل نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ کیا پانی اور کیکر کی چھال نہیں ہے جو اس کو پاک کردیتی۔