hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6320

.

سنن البيهقي

6320
Sunan Al Bayhaqi
(۶۳۲۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الصُّولِیُّ إِمْلاَئً سَنَۃَ أَرْبَعٍ وَثَلاَثِینَ وَثَلاَثِ مِائَۃٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ: سُلَیْمَانُ بْنُ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ ذَلِکَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ إِبْرَاہِیمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا کَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاہِیمَ فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتِ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ کَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرأَ دُونَ الْقِرَائَ ۃِ الأُولَی ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرأَ الْقِرَائَ ۃَ الثَّالِثَۃَ دُونَ الْقِرَائَ ۃِ الثَّانِیَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ لَیْسَ فِیہَا رَکْعَۃٌ إِلاَّ الَّتِی قَبْلَہَا أَطْوَلُ مِنْہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رُکُوعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِی صَلاَتِہِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَہُ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِی مُقَامِہِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ مَعَہُ فَقَضَی الصَّلاَۃَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بِشْرٍ ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَصَلُّوا حَتَّی تَنْجَلِیَ))۔ [صحیح۔ مسلم ۹۰۴]
(٦٣٢٠) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا۔ یہ وہ دن تھا جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو لوگوں نے کہا : یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبی قرأت کی۔ پھر اتنا ہی لمبا رکوع کیا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گرپڑے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتناہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ فرمایا : اے لوگو ! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائے۔