(۶۳۵۰) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَکِیعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُجَمِّعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّہِ سِیرِینَ قَالَتْ: حَضَرْتُ مَوْتَ إِبْرَاہِیمَ ابْنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَکَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَئِذٍ فَقَالَ النَّاسُ: ہَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاہِیمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ-: ((إِنَّ الشَّمْسَ لاَ تَنْکَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ))۔وَمَاتَ یَوْمَ الثُّلاَثَائِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِیعٍ الأَوَّلِ سَنَۃَ عَشْرٍ۔
وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ الزُّبَیْرُ بْنُ بَکَّارٍ فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا فَوَفَاۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَہُ بِسَنَۃٍ سَنَۃَ إِحْدَی عَشْرَۃَ وَقَدْ رُوِّینَا فِی أَخْبَارٍ صَحِیحَۃٍ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ یَوْمَ تُوُفِّیَ إِبْرَاہِیمُ ابْنُ نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ-۔
[صحیح لغیرہٖ۔ طبقات ابن سعد ۱/۱۴۳]
(٦٣٥٠) عبد الرحمن بن حسان اپنی والدہ سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم کی موت کے وقت موجود تھیں۔ اس دن سورج گرہن ہوگیا۔ لوگوں نے کہا : یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے اور یہ واقعہ منگل کے دن ربیع الاول کی دس تاریخ کو ١٠ نبوی کو پیش آیا۔