(۶۳۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الْقَمَرَ کَسَفَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَۃِ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکِبَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ: إِنَّمَا صَلَّیْتُ کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَقَالَ: ((إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلاَ لِحَیَاتِہِ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْہُمَا خَاسِفًا فَلْیَکُنْ فَزَعُکُمْ إِلَی اللَّہِ))۔ [ضعیف جداً۔ أخرجہ الشافعی ۳۴۶]
(٦٣٥٨) حضرت حسن عبداللہ بن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ چاند گرہن ہوا اور ابن عباس (رض) بصرہ میں تھے۔ انھوں نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سوار ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا، فرماتے ہیں : میں نے نماز پڑھائی جیسا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور سورج ا ورچاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے، جب تم میں سے کوئی اسے دیکھے تو اللہ سے مدد طلب کرے۔