hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6360

.

سنن البيهقي

6360
Sunan Al Bayhaqi
(۶۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہِیَ تُصَلِّی فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ یُصَلُّونَ۔فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا إِلَی السَّمَائِ فَقُلْتُ: آیَۃٌ فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْقِیَامَ جِدًّا حَتَّی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ فَأَخَذْتُ قِرْبَۃً مِنْ مَائٍ إِلَی جَنْبِی فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَی رَأْسِی الْمَائَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ۔فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَیْئٍ تُوعَدُونَہُ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ إِلاَّ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مُقَامِی ہَذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ ، وَإِنَّہُ قَدْ أُوحِیَ إِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِی الْقُبُورِ قَرِیبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ ۔لاَ أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ ، یُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ: مَا عِلْمُکَ بِہَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ فَیَقُولُ: ہُوَ مُحَمَّدٌ ہُوَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ ، وَالْہُدَی فَأَجَبْنَا ، وَاتَّبَعْنَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔فَیُقَالُ لَہُ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِہِ فَنَمْ صَالِحًا ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ فَیَقُولُ: لاَ أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ ، فَیَقُولُ: لاَ أَدْرِی سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُولُونَ شَیْئًا فَقُلْتُ))۔ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الْحُسَیْنِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۵۷]
(٦٣٦٠) اسماء بنت أبی بکر (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا : لوگوں کی کیا حالت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں ؟ حضرت عائشہ (رض) نے اپنے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا : یہ نشانی ہے ؟ کہنے لگیں : ہاں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت طویل قیام کیا، یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔ میں نے ایک چھوٹا مشکیزہ اپنے پہلو میں رکھا اور سر پر پانی ڈالنے لگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہوچکا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا : جس چیز کا بھی تمہیں وعدہ کیا گیا تھا میں نے اس کو اپنی اس جگہ پر دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دِ جال کے فتنے کی طرح آزمائے جاؤ گے میں نہیں جانتا یہ کیا ہے ! اسماء (رض) فرماتی ہیں : تمہارے پاس کسی صاحب کو لایا جائے گا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس کو جانتے ہو ؟ مومن اور یقین رکھنے والا کہے گا کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، اللہ کے رسول ہیں وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئی تھے تو ہم نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی اطاعت کی، ایسا تین بار کہے گا۔ پھر اس مومن سے کہا جائے گا کہ ہم جانتے تھے کہ تو اس پر ایمان رکھتا ہے تو آرام سے سوجا اور منافق یا شکی آدمی کہے گا، میں نہیں جانتا یہ کون ہے ؟ اسماء فرماتی ہیں کہ وہ بندہ (منافق) کہے گا میں نے نہیں جانتا، میں لوگوں سے سنتا تھا کہ وہ کچھ کہتے ہیں تو میں نے بھی کہہ دیا۔