(۶۳۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الإِیَادِیُّ الْمَالِکِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَوا: إِنَّمَا انْکَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاہِیمَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَسْجِدِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إِلَی الصَّلاَۃِ))۔
(٦٣٧٠) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن لگا تو لوگ کہنے لگے : یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں آئے ‘ لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا : اے لوگو ! سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم یہ دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔