(۶۳۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی خُسُوفِ الشَّمْسِ کَمَا مَضَی فِی حَدِیثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ: وَقَالَ أَیْضًا -ﷺ-: ((فَصَلُّوا حَتَّی یُفْرَجَ عَنْکُمْ))۔وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((رَأَیْتُ فِی مُقَامِی ہَذَا کُلَّ شَیْئٍ وُعِدْتُمْ حَتَّی لَقَدْ رَأَیْتُنِی أُرِیدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّۃِ حِینَ رَأَیْتُمُونِی جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ جَہَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا حِینَ رَأَیْتُمُونِی تَأَخَّرْتُ ، وَرَأَیْتُ فِیہَا ابْنَ لُحَیٍّ وَہُوَ الَّذِی سَیَّبَ السَّوَائِبَ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۹۵۱]
(٦٣٧٣) عروہ بن زبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں، انھوں نے سورج گرہن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو بیان کیا جیسا کہ پہلے بحر بن نصر عن ابن وھب کی حدیث میں گزر چکا ہے۔ لیکن اس کے آخر میں کچھ الفاظ زائد ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ کیفیت تم سے دور کردی جائے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنی اس جگہ تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ میں جنت کا ایک خوشہ پکڑلوں۔ تم نے اس وقت مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے۔ جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے تھے۔