(۶۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الْوَلِیدَ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ ۔ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : إِنَّمَا تَمَارَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فِی صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : لاَ بَلْ أَرْسَلَ ابْنُ أَخِیکُمْ یَعْنِی الْوَلِیدَ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ یَوْمَئِذٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتَکُمْ ہَذِہِ ، وَلَکِنْ لَمْ یَزَلْ فِی الدُّعَائِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّکْبِیرِ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا کَانَ یُصَلِّی فِی الْعِیدَیْنِ۔ [حسن۔ ابن خزیمۃ]
(٦٣٨٦) ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے ولید نے ابن عباس (رض) کی طرف بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز استقاء کے متعلق دریافت کروں سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا : ان سے آپ نے مسجد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ’ صلوۃ الاستسقائ ‘ کے متعلق ہمیں شک میں ڈال دیا ہے تو انھوں نے کہا : نہیں بلکہ تمہارے بھائی کے بیٹے ولید نے بھیجا ہے تب وہ مدینے کا امیر تھا تو تب ابن عباس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاجزی انکساری کرتے ہوئے اور گڑ گڑاتے ہوئے نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے مگر تمہارے آج کے خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے رہے اور گڑ گڑاتے رہے اور اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عیدین میں پڑھایا کرتے تھے۔