(۶۴۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السُّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ قَالَ : أَرْسَلَنِی مَرْوَانُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنْ سُنَّۃِ الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : سُنَّۃُ الاِسْتِسْقَائِ سُنَّۃُ الصَّلاَۃِ فِی الْعِیدَیْنِ إِلاَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَلَبَ رِدَائَ ہُ فَجَعَلَ یَمِینَہُ عَلَی یَسَارِہِ وَیَسَارَہُ عَلَی یَمِینِہِ ، وَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ فَکَبَّرَ فِی الأُولَی سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ وَقَرَأَ بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَقَرَأَ فِی الثَّانِیَۃِ {ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ} وَکَبَّرَ فِیہَا خَمْسَ تَکْبِیرَاتٍ۔
[منکر۔ الحاکم]
(٦٤٠٥) حضرت طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے مروان نے ابن عباس کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو انھوں نے کہا : صلوۃ استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو صلوۃ العیدین کا ہے سوا اس کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر کو پلٹایا (پھیرا) اور دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پہلی رکعت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات تکبیرات کہیں اور سورة ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پڑھی اور دوسری رکعت میں ” ھل اتاک حدیث الغاشیۃ “ پڑھی اور اس میں پانچ تکبیرات کہیں۔