(۶۴۲۶) قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِیہِ یَعْنِی مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِیلٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رُبَّمَا ذَکَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمِنْبَرِ یَسْتَسْقِی۔ فَمَا یَنْزِلُ حَتَّی یَجِیشَ کُلُّ مِیزَابٍ فَأَذْکُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ
وَأَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالُ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلأَرَامِلِ
قَالَ : وَہُوَ قَوْلُ أَبِی طَالِبٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٤٢٦) سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات میں شاعر کے شعر کو یاد کرتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھتا جو منبر پر کھڑے بارش مانگ رہے ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نہ اترتے کہ ہر پر نالہ جوش سے بہنے لگتا اور مجھے شاعر کا قول یاد آجاتا۔
وَأَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالُ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلأَرَامِلِ
اور انھوں نے کہا کہ یہ ابو طالب کا قول ہے۔