(۶۴۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ثَرْوَانَ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کَرِیزٍ الْخُزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ : حَدَّثَنِی سَیِّدِی أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ دَعَا لأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِہِ آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٤٣١) ام درداء بیان کرتی ہیں کہ مجھے میرے سرتاج نے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جس نے اپنے بھائی کیلئے اس کی عدم موجودگی میں دعا کی تو ” ملک مؤکل “ اس پر آمین کہتا ہے اور کہتا ہے دعا کرنے والے تیرے لیے بھی ایسے ہی ہو۔