(۶۴۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُالْخالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِالْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبَغْدَادِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: أَتَی رَجُلٌ أَعْرَابِیٌّ مِنْ أَہْلِ الْبَدْوِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکَتِ الْمَاشِیَۃُ ، ہَلَکَ الْعِیَالُ ہَلَکَ النَّاسُ۔فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدَیْہِ یَدْعُو وَرَفَعَ النَّاسُ أَیْدِیَہُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَدْعُونَ قَالَ فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّی مُطِرْنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّی الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی فَأَتَی الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَثِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِیقُ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٤٤٩) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں : دیہاتیوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمعہ کے دن آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جانور ہلاک ہوگئے، اہل و عیال اور عام لوگ ہلاک ہوگئے ہیں تو رسول اللہ دعا کیلئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے اور انھوں نے بھی دعا کی۔ انس (رض) کہتے ہیں کہ ابھی ہم مسجد سے نہیں نکلے تھے کہ ہمیں بارش نے آلیا اور دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مسافر کیچڑ میں پھنس گئے ہیں اور راستے مسدود ہوچکے ہیں۔